فطرانہ کیلکولیٹر
فطرانہ گھر کے ہر فرد پر واجب ہے — بچوں سمیت۔ یہاں سب کو شمار کریں اور عید کی نماز سے پہلے واجب کل رقم معلوم کریں۔ کوئی معلومات محفوظ نہیں ہوتی اور کہیں نہیں بھیجی جاتی۔
آپ کے گھر میں کون کون ہے
فطرانہ بچوں پر بھی واجب ہے — یہی بات سب سے زیادہ رہ جاتی ہے
اِس سال کی شرح
وہ شرح جو آپ کے مقامی علماء ہر رمضان میں اعلان کرتے ہیں
شرح معلوم نہیں؟
فطرانہ فی کس ایک صاع غلہ ہے — گندم، جَو، کھجور یا کشمش۔ مقامی علماء ہر رمضان میں اس کی نقد قیمت کا اعلان کرتے ہیں، اور عموماً کئی شرحیں بتائی جاتی ہیں: گندم کے حساب سے کم، اور کھجور یا کشمش کے حساب سے زیادہ۔ اگر آپ زیادہ والی ادا کر سکتے ہیں تو یہ بہتر ہے۔ آپ خود بھی غلے کی قیمت سے حساب لگا سکتے ہیں:
حوالوں میں ایک صاع کو ”چار لپ“ کہا گیا ہے۔ اس کا کلوگرام میں وزن مکاتبِ فکر اور علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہے، اور احناف عموماً گندم میں نصف صاع لیتے ہیں — اس لیے وہی وزن لیں جو آپ کے مقامی علماء بتائیں۔
آپ کا فطرانہ
- افراد
- 0
- فی کس
- —
—
شروع کرنے کے لیے گھر کے افراد شامل کریں۔
اپنا فطرانہ ادا کریں
فطرانہ عید کی نماز سے پہلے مستحقین تک پہنچنا ضروری ہے۔ عوامی عطیات پر کوئی انتظامی کٹوتی نہیں۔
یہ سہولت صرف آپ کے دیے گئے اعداد کا حساب کرتی ہے، یہ شرعی فتویٰ نہیں۔ شرح اور وزن وہی لیں جو آپ کے مقامی علماء بتائیں، اور شک کی صورت میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
فطرانہ کیسے واجب ہوتا ہے
فی کس ایک صاع
گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع غلہ — گندم، جَو، کھجور یا کشمش۔ سربراہِ خانہ سب کی طرف سے ادا کر سکتا ہے۔
ہر فرد شامل ہے
ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب: مرد و عورت، چھوٹے اور بڑے۔ بچے بھی شامل ہیں، اور یہی بات سب سے زیادہ نظر انداز ہوتی ہے۔
عید کی نماز سے پہلے
رمضان کے آخری دن غروبِ آفتاب سے عید کی نماز تک واجب۔ رمضان میں پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے تاکہ بروقت مستحقین تک پہنچے — اور یہی بہتر ہے۔
کیا نقد رقم دی جا سکتی ہے؟ فقہ حنفی نقد قیمت کی ادائیگی کی اجازت دیتی ہے، اور پاکستان میں عام رواج یہی ہے۔ مالکی، شافعی اور حنبلی مکاتبِ فکر غلہ ہی دینے کے قائل ہیں، اگرچہ بہت سے سرکاری دار الافتاء نے نقد کو اختیار کیا ہے۔ اپنے مکتبِ فکر اور مقامی رہنمائی پر عمل کریں۔
زکوٰۃ کیلکولیٹر اور زکوٰۃ کا صفحہ الگ چیزیں ہیں — فطرانہ اور زکوٰۃ ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے۔
رمضان میں روزانہ کا نظام الاوقات سحری و افطار کے اوقات کے صفحے پر موجود رہتا ہے۔
عام سوالات
فی کس فطرانہ کتنا ہے؟
فی کس ایک صاع غلہ، اور اس کی نقد قیمت کا اعلان مقامی علماء ہر رمضان میں کرتے ہیں۔ عموماً کئی شرحیں بتائی جاتی ہیں — گندم کے حساب سے کم، اور جَو، کھجور یا کشمش کے حساب سے زیادہ۔ اگر آپ زیادہ والی ادا کر سکتے ہیں تو یہ بہتر ہے۔
کیا بچوں کا فطرانہ بھی دینا ہوگا؟
جی ہاں۔ گھر کے ہر صاحبِ استطاعت فرد کی طرف سے واجب ہے، چھوٹے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا عورت، اور عموماً سربراہِ خانہ سب کی طرف سے ادا کرتا ہے۔ بچوں کا رہ جانا سب سے عام غلطی ہے۔
فطرانہ کب تک ادا کرنا ضروری ہے؟
رمضان کے آخری دن غروبِ آفتاب سے واجب ہوتا ہے اور عید کی نماز سے پہلے مستحقین تک پہنچنا چاہیے۔ رمضان میں پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے، اور جلد ادائیگی بہتر ہے تاکہ عید سے پہلے پہنچ جائے۔
کیا غلے کے بجائے رقم دی جا سکتی ہے؟
فقہ حنفی نقد قیمت کی اجازت دیتی ہے، اسی لیے پاکستان میں عام رواج نقد کا ہے۔ مالکی، شافعی اور حنبلی مکاتبِ فکر غلہ ہی دینے کے قائل ہیں، اگرچہ بہت سے سرکاری دار الافتاء نے نقد کو اختیار کیا ہے۔ اپنے مکتبِ فکر اور مقامی رہنمائی پر عمل کریں۔
کیا فطرانہ اور زکوٰۃ ایک ہی چیز ہے؟
نہیں۔ زکوٰۃ سالانہ فریضہ ہے — نصاب سے زائد مال پر، ایک قمری سال گزرنے کے بعد، 2.5%۔ فطرانہ رمضان کے اختتام پر فی کس ایک مقررہ مقدار ہے، جو تقریباً ہر صاحبِ استطاعت پر واجب ہے۔ دونوں الگ ہیں، ایک کی ادائیگی سے دوسری ادا نہیں ہوتی۔
فطرانہ کون لے سکتا ہے؟
غریب اور مستحق افراد، تاکہ وہ بھی سب کے ساتھ عید منا سکیں۔ فاؤنڈیشن اسے اسی مقصد پر خرچ کرتی ہے اور عوامی عطیات پر کوئی انتظامی کٹوتی نہیں لیتی۔