کراچی میں زکوٰۃ ادا کریں
زکوٰۃ احسان نہیں، فرض ہے — اور یہ اُن لوگوں کا حق ہے جن کا قرآن نے نام لیا۔ ہم زکوٰۃ کو عام عطیات سے الگ رکھتے ہیں اور اس پر کوئی انتظامی کٹوتی نہیں کرتے۔
کتنی زکوٰۃ بنتی ہے، معلوم نہیں؟ ہمارا مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں ←
زکوٰۃ کا حساب کیسے ہوتا ہے
زکوٰۃ اُس وقت واجب ہوتی ہے جب آپ کا قابلِ زکوٰۃ مال پورے ایک قمری سال تک نصاب سے زائد رہے۔
2.5%
شرح
آپ کے قابلِ زکوٰۃ مال کا چالیسواں حصہ — بچت، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور واجب الوصول رقوم۔
ایک سال
حول
مال کو پورے ایک قمری سال تک نصاب سے زائد رہنا ضروری ہے، اس کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
نصاب
حد
87.48 گرام سونا (ساڑھے سات تولہ) یا 612.36 گرام چاندی (ساڑھے باون تولہ)۔ چاندی کا نصاب کم ہے، اس لیے زیادہ لوگ دینے کے اہل ہوتے ہیں۔
مسائل کے بارے میں: اوپر دی گئی تفصیل جمہور علماء کے مسلک کے مطابق ہے۔ ہر شخص کے حالات مختلف ہوتے ہیں — اپنے مال سے متعلق مخصوص سوالات کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع فرمائیں۔
زکوٰۃ کن کا حق ہے
زکوٰۃ صرف اُن آٹھ مدات میں دی جا سکتی ہے جن کا ذکر قرآن مجید — سورۃ التوبہ، آیت 60 — میں ہے۔ ہماری فلاحی سرگرمیاں انہی مدات کے مستحقین کے لیے ہیں۔
الفقراء
فقیر — جن کے پاس گزر بسر کا کوئی یا برائے نام ذریعہ ہو۔
المساکین
مسکین — جن کی آمدنی بنیادی ضروریات پوری نہ کرتی ہو۔
العاملین
زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم پر مامور افراد۔
المؤلفۃ القلوب
وہ لوگ جن کی دلجوئی مقصود ہو۔
الرقاب
غلامی یا قید سے آزادی دلانا۔
الغارمین
جو جائز قرض کے بوجھ تلے ہوں اور ادا نہ کر سکیں۔
فی سبیل اللہ
اللہ کی راہ میں۔
ابن السبیل
مسافر جو اپنے وسائل سے کٹ گیا ہو۔
آپ کی زکوٰۃ کا انتظام
- زکوٰۃ عام عطیات سے الگ ریکارڈ کی جاتی ہے۔
- یہ صرف شریعت کے مطابق مستحق افراد پر خرچ ہوتی ہے۔
- صفر فیصد انتظامی کٹوتی — اخراجات مجلسِ عاملہ خود اٹھاتی ہے۔
- حساب کتاب آڈٹ کے لیے تیار اور جانچ کے لیے کھلا رہتا ہے۔
زکوٰۃ کیسے بھیجیں
رقم کے حوالے (reference) میں ZAKAT لکھیں۔ یہی ایک لفظ ہمیں بتاتا ہے کہ رقم الگ رکھنی ہے۔
- عطیات کے صفحے پر دی گئی تفصیل کے مطابق رقم بھیجیں۔
- حوالے میں ZAKAT ضرور لکھیں۔
- رسید کے لیے ٹرانسفر کا اسکرین شاٹ اپنے نام کے ساتھ +92 308 2966680 یا info@warisalishah.org پر بھیجیں۔
زکوٰۃ سے متعلق سوالات
زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
نصاب وہ کم از کم مالیت ہے جس کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس کا پیمانہ 87.48 گرام سونا (ساڑھے سات تولہ) یا 612.36 گرام چاندی (ساڑھے باون تولہ) ہے۔ بہت سے علماء چاندی کے نصاب کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم ہے اور اس سے زیادہ مستحقین کو فائدہ پہنچتا ہے۔
زکوٰۃ کی مقدار کتنی ہے؟
ڈھائی فیصد (2.5%) — یعنی چالیسواں حصہ — اُس مال کا جو پورے ایک قمری سال (حول) تک نصاب سے زائد رہا ہو۔
کیا میری زکوٰۃ عام عطیات سے الگ رکھی جاتی ہے؟
جی ہاں۔ اپنی رقم کے ساتھ حوالہ ZAKAT لکھ دیں اور اسے عام عطیات سے الگ ریکارڈ کیا جاتا ہے، تاکہ وہ صرف شریعت کے مطابق مستحق افراد پر خرچ ہو۔
میری زکوٰۃ کا کتنا حصہ مستحقین تک پہنچتا ہے؟
فاؤنڈیشن صفر فیصد انتظامی کٹوتی کی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ انتظامی اخراجات مجلسِ عاملہ کے ارکان خود برداشت کرتے ہیں، اس لیے آپ کی زکوٰۃ اخراجات کے بجائے امداد پر لگتی ہے۔
کیا میں پاکستان سے باہر سے زکوٰۃ بھیج سکتا ہوں؟
فی الحال فاؤنڈیشن صرف پاکستان کے اندر سے عطیات وصول کر سکتی ہے۔ پاکستان میں فلاحی اداروں کو بیرونِ ملک سے رقوم لینے کے لیے اضافی قانونی منظوری درکار ہوتی ہے، اور ہم وہ رقم قبول نہیں کریں گے جس کی ہمیں ابھی اجازت نہیں۔
ایک رجسٹرڈ فلاحی ادارہ
زکوٰۃ ایک امانت ہے۔ آپ کا حق ہے کہ جانیں یہ امانت کس کے پاس ہے۔
رجسٹریشن
KAR NO. 087 of 2024-25
سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ XXI آف 1860
این او سی
FATF/HD/15/201/NOC/2023/31
محکمۂ داخلہ، حکومتِ سندھ