مرکزی مواد پر جائیں
حاجی وارث علی شاہ فاؤنڈیشن کا لوگو
حاجی وارث علی شاہ فاؤنڈیشن
مفت سہولت

زکوٰۃ کیلکولیٹر

آج کے سونے چاندی کے ریٹ سے اپنا نصاب معلوم کریں، اپنے اثاثے شامل کریں، قرض منہا کریں، اور دیکھیں کہ 2.5% کے حساب سے کتنی زکوٰۃ واجب ہے۔ کوئی معلومات محفوظ نہیں ہوتی اور کہیں نہیں بھیجی جاتی — سارا حساب آپ کے اپنے براؤزر میں ہوتا ہے۔

Use this calculator in English →

1۔ آج کے ریٹ

نصاب وزن سے مقرر ہے، روپے سے نہیں — اس لیے حد بازار کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ آج کا فی تولہ ریٹ درج کریں؛ کسی بھی جیولر یا خبر کی ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے۔ ہم جان بوجھ کر یہ پہلے سے نہیں بھرتے: پرانا ریٹ ایک شرعی معاملے میں غلط جواب دے گا۔

نصاب 7.5 تولہ (87.48 گرام)

نصاب 52.5 تولہ (612.36 گرام)

آج سونے کا نصاب

—

آج چاندی کا نصاب

—

حساب کس نصاب پر کریں

اگر آپ کے پاس نقدی، بچت اور سونا ملا جلا ہے تو اکثر علماء چاندی کا نصاب لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ کم حد ہے، اس لیے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں — یہی محتاط راستہ ہے اور اسی میں مستحقین کا فائدہ ہے۔

2۔ آپ کے اثاثے

زیورات، سکے، بسکٹ

فروخت کے لیے رکھے گئے سامان کی مالیت

وہ قرض جس کی واپسی کی توقع ہے

موجودہ مالیت

رہائشی مکان، ذاتی گاڑی، کپڑے اور گھریلو سامان زکوٰۃ میں شامل نہیں — انہیں شامل نہ کریں۔

3۔ آپ کے واجبات

کرایہ، یوٹیلیٹی، اجرت

صرف وہ منہا کریں جو ابھی واقعی ادا کرنا ہے — طویل المدت قرض کی پوری رقم نہیں۔

آپ کی زکوٰۃ

کل اثاثے
Rs 0
منہا واجبات
Rs 0
خالص قابلِ زکوٰۃ مال
Rs 0

شروع کرنے کے لیے آج کا ریٹ درج کریں

—

نصاب کا انحصار سونے چاندی کے موجودہ ریٹ پر ہے، اس لیے یہ پہلے سے نہیں بھرا جا سکتا۔

دینے کے لیے تیار ہیں؟

فاؤنڈیشن کو دی گئی زکوٰۃ صرف سورۃ التوبہ 9:60 کے آٹھ مصارف پر خرچ ہوتی ہے، عام عطیات سے الگ رکھی جاتی ہے، اور اس پر کوئی انتظامی کٹوتی نہیں۔

ادائیگی کی تفصیل ←

دینے سے پہلے زکوٰۃ کے صفحے پر پروگراموں کی موجودہ صورتحال ضرور دیکھ لیں — ہمارے پروگرام ابھی قائم ہو رہے ہیں۔

یہ سہولت آپ کے دیے گئے اعداد پر عام مسلّمہ اصول لاگو کرتی ہے۔ یہ ایک ابتدا ہے، شرعی فتویٰ نہیں۔ کاروباری شراکت، زرعی پیداوار، پنشن یا کسی پیچیدہ معاملے میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

اصول

زکوٰۃ کا حساب کیسے ہوتا ہے

2.5%

قابلِ زکوٰۃ مال کا چالیسواں حصہ، جب وہ نصاب سے بڑھ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔

نصاب

87.48 گرام سونا (7.5 تولہ) یا 612.36 گرام چاندی (52.5 تولہ)۔ ایک تولہ 11.664 گرام کا ہوتا ہے۔ اس حد سے کم پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

حول

ایک قمری سال کی مسلسل ملکیت۔ بہت سے لوگ رمضان میں ایک تاریخ مقرر کر لیتے ہیں اور ہر سال اسی دن حساب کرتے ہیں۔

زکوٰۃ سورۃ التوبہ 9:60 میں بیان کردہ آٹھ مصارف کا حق ہے۔ زکوٰۃ کا صفحہ ان سب کی تفصیل دیتا ہے۔ رکنیت کی ماہانہ فیس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، کیونکہ وہ ان آٹھ مصارف تک محدود نہیں۔

رمضان میں روزانہ کا نظام الاوقات سحری و افطار کے اوقات کے صفحے پر موجود رہتا ہے۔

سوالات

عام سوالات

آج زکوٰۃ کا نصاب پاکستانی روپے میں کتنا ہے؟

یہ روزانہ بدلتا ہے، کیونکہ نصاب وزن سے مقرر ہے، روپے سے نہیں۔ سونے کا نصاب 87.48 گرام (7.5 تولہ) اور چاندی کا نصاب 612.36 گرام (52.5 تولہ) ہے۔ آج کے فی تولہ ریٹ کو 7.5 یا 52.5 سے ضرب دیں — یہ کیلکولیٹر آپ کے ریٹ درج کرتے ہی خود یہ حساب کر دیتا ہے۔

سونے کا نصاب لوں یا چاندی کا؟

اگر آپ کے پاس نقدی، بچت، سونا اور مالِ تجارت ملا جلا ہے تو اکثر علماء چاندی کا نصاب لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ کم حد ہے، اس لیے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں — یہی محتاط راستہ ہے اور اسی میں مستحقین کا فائدہ ہے۔ یہ کیلکولیٹر بطورِ ڈیفالٹ چاندی کا نصاب لیتا ہے اور دونوں دکھاتا ہے۔

زکوٰۃ کی شرح کیا ہے؟

2.5% — یعنی چالیسواں حصہ — اُس مال کا جو نصاب سے زیادہ ہو اور جس پر ایک قمری سال (حول) گزر چکا ہو۔

کون سے اثاثے شامل کیے جائیں؟

ہاتھ اور بینک میں موجود نقدی، سونا چاندی، وہ رقم جو آپ نے قرض دی ہے اور واپسی کی توقع ہے، مالِ تجارت، اور شیئرز و سرمایہ کاری کی موجودہ مالیت۔ رہائشی مکان، ذاتی گاڑی، کپڑے اور گھریلو سامان زکوٰۃ میں شامل نہیں۔

کیا میں اپنا قرض منہا کر سکتا ہوں؟

جی ہاں۔ وہ قرض جو واقعی واجب الادا ہے — واجب الادا رقوم، بقایا بل اور قلیل المدت ذمہ داریاں — کل مالیت سے منہا کی جاتی ہیں۔ صرف وہ منہا کریں جو ابھی ادا کرنا ہے، طویل المدت قرض کی پوری رقم نہیں۔

کیا یہ کیلکولیٹر شرعی فتویٰ ہے؟

نہیں۔ یہ آپ کے دیے گئے اعداد پر عام مسلّمہ اصول لاگو کرتا ہے اور ایک مفید ابتدا ہے — لیکن حالات مختلف ہوتے ہیں۔ کاروباری شراکت، زرعی پیداوار، پنشن یا کسی پیچیدہ معاملے میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

اگر میں فاؤنڈیشن کو زکوٰۃ دوں تو وہ کہاں خرچ ہوتی ہے؟

زکوٰۃ کی رقم صرف سورۃ التوبہ 9:60 میں بیان کردہ آٹھ مصارف پر خرچ ہوتی ہے اور عام عطیات سے الگ رکھی جاتی ہے۔ عوامی عطیات پر انتظامی اخراجات کی کوئی کٹوتی نہیں۔ ہمارے پروگرام ابھی قائم ہو رہے ہیں، اس لیے دینے سے پہلے زکوٰۃ کے صفحے پر موجودہ صورتحال ضرور دیکھ لیں۔